صحیح بخاری حدیث ۷۳۷۰ - بہتان کو رد کرنے کی تعلیم
بہتان عظیم کہنے والی حدیث اور زبان کی حفاظت
صحیح بخاری : ۷۳۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۷۰
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ الْغَسَّانِيُّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَطَبَ النَّاسَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : مَا تُشِيرُونَ عَلَيَّ فِي قَوْمٍ يَسُبُّونَ أَهْلِي مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ سُوءٍ قَطُّ ، وَعَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : لَمَّا أُخْبِرَتْ عَائِشَةُ بِالْأَمْرِ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَنْطَلِقَ إِلَى أَهْلِي ، فَأَذِنَ لَهَا وَأَرْسَلَ مَعَهَا الْغُلَامَ ، وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ : سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب کیا اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”تم مجھے ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دیتے ہو جو میرے اہل خانہ کو بدنام کرتے ہیں حالانکہ ان کے بارے میں مجھے کوئی بری بات کبھی نہیں معلوم ہوئی۔عروہ سے روایت ہے، انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب اس واقعہ کا علم ہوا (کہ کچھ لوگ انہیں بدنام کر رہے ہیں) تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! کیا مجھے آپ اپنے والد کے گھر جانے کی اجازت دیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور ان کے ساتھ غلام کو بھیجا۔ انصار میں سے ایک صاحب ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا «سبحانك ما يكون لنا أن نتكلم بهذا، سبحانك هذا بهتان عظيم.» ”تیری ذات پاک ہے، اے اللہ! ہمارے لیے مناسب نہیں کہ ہم اس طرح کی باتیں کریں تیری ذات پاک ہے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۳۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں تہمت کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا، اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا کہ تم مجھے ان لوگوں کے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہو جو میرے اہل خانہ کو بدنام کرتے ہیں، حالانکہ میں نے ان کے بارے میں کوئی بری بات کبھی نہیں جانی۔ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی خبر ہوئی تو انہوں نے اپنے والد کے گھر جانے کی اجازت چاہی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ حدیث میں انصاری صحابی ابوایوب رضی اللہ عنہ کا پاکیزہ جواب بھی آیا: اے اللہ! تیری ذات پاک ہے، ہمارے لیے مناسب نہیں کہ ہم ایسی بات کریں، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ بغیر علم کے بات نہ پھیلائی جائے، بہتان کو بہتان سمجھا جائے، اور پاک دامن لوگوں کے بارے میں زبان بچائی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بغیر علم کے کسی کے بارے میں بری بات کہنا خطرناک ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کے بارے میں خیر ہی بیان کی۔
- صحابی نے تہمت کو صاف الفاظ میں بہتان عظیم کہا۔
- ایسی بات سن کر خاموش تماشائی بننے کے بجائے حق بات کہنی چاہیے۔
