صحیح بخاری حدیث ۷۳۷۵ - سورۃ اخلاص سے محبت
سورۃ اخلاص سے محبت اور اللہ کی محبت والی حدیث
صحیح بخاری : ۷۳۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۷۵
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَكَانَتْ فِي حَجْرِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ وَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ ، فَسَأَلُوهُ ؟ ، فَقَالَ : لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ " .
عمرہ بنت عبدالرحمٰن روایت:
´ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابوہلال نے اور ان سے ابوالرجال محمد بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ان کی والدہ عمرہ بن عبدالرحمٰن نے` وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں تھیں۔ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو ایک مہم پر روانہ کیا۔ وہ صاحب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں ختم قل ھو اللہ احد پر کرتے تھے۔جب لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ وہ یہ طرز عمل کیوں اختیار کئے ہوئے تھے۔ چنانچہ لوگوں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ یہ اللہ کی صفت ہے اور میں اسے پڑھنا عزیز رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بتا دو کہ اللہ بھی انہیں عزیز رکھتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک مہم پر روانہ کیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور قراءت کے آخر میں قل هو الله أحد پڑھتے تھے۔ جب لوگ واپس آئے تو انہوں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے پوچھو وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سورت اللہ کی صفت ہے اور میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بتا دو کہ اللہ بھی انہیں عزیز رکھتا ہے۔ اس حدیث میں سورۃ اخلاص کی محبت، اللہ کی صفات سے محبت، اور نماز میں قراءت کے ایک عمل کا ذکر ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ اس صحابی نے اس سورت کو اس لیے پسند کیا کہ اس میں اللہ کی صفت بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۃ اخلاص میں اللہ کی صفت کا بیان ہے۔
- صحابی اس سورت کو محبت کی وجہ سے پڑھتے تھے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ معلوم کرنے کا حکم دیا۔
- حدیث میں اس صحابی کے لیے اللہ کی محبت کی بشارت آئی ہے۔
