صحیح بخاری حدیث ۵۰۱۳ - قل هو الله أحد تہائی قرآن
سورۃ اخلاص کی فضیلت: ایک تہائی قرآن کے برابر
صحیح بخاری : ۵۰۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۱۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ رَدِّدُهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " ،
ابو سعید خدری روایت:
ایک صحابی (خود ابو سعید خدری) نے ایک دوسرے صحابی (قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ) اپنے ماں جائے بھائی کو دیکھا کہ وہ رات کو سورۃ «قل هو الله أحد» باربار پڑھ رہے ہیں۔ صبح ہوئی تو وہ صحابی (ابوسعید رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گویا انہوں نے سمجھا کہ اس میں کوئی بڑا ثواب نہ ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ سورت قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کے برابر ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سورۃ اخلاص یعنی قل هو الله أحد کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ ایک صحابی نے دوسرے صحابی کو رات میں یہی سورت بار بار پڑھتے دیکھا۔ صبح ہوئی تو انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے اس کا ذکر کیا، جیسے انہیں لگا کہ شاید یہ عمل کم سمجھا جائے گا کیونکہ پڑھنے والے نے صرف ایک ہی سورت دہرائی تھی۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ سورت قرآن مجید کے ایک تہائی حصے کے برابر ہے۔ اس حدیث میں سورۃ اخلاص کی فضیلت، قل هو الله أحد کا مقام، اور قرآن کی ایک چھوٹی سورت کی بڑی قدر سامنے آتی ہے۔ یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ عمل کو اپنی نظر سے چھوٹا سمجھنے کے بجائے نبی صلى الله عليه وسلم کے بتائے ہوئے مقام کو دیکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۃ اخلاص کو اس حدیث میں قرآن کے ایک تہائی حصے کے برابر کہا گیا ہے۔
- ایک چھوٹی سورت بھی اللہ کے ہاں بہت بڑا مقام رکھ سکتی ہے۔
- صحابہ دینی اعمال کے بارے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے وضاحت لیتے تھے۔
- کسی عمل کو کم سمجھنے سے پہلے اس کی شرعی فضیلت جاننی چاہیے۔
