صحیح بخاری حدیث ۵۰۱۲ - سورۃ الفتح کی عظمت
سورۃ الفتح کی فضیلت اور نبی صلى الله عليه وسلم کا محبوب فرمان
صحیح بخاری : ۵۰۱۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۱۲
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسِيرُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسِيرُ مَعَهُ لَيْلًا ، فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ شَيْءٍ ، فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ سَأَلَهُ : فَلَمْ يُجِبْهُ ، ثُمَّ سَأَلَهُ : فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ، نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، كُلَّ ذَلِكَ لَا يُجِيبُكَ ، قَالَ عُمَرُ : فَحَرَّكْتُ بَعِيرِي حَتَّى كُنْتُ أَمَامَ النَّاسِ وَخَشِيتُ أَنْ يَنْزِلَ فِيَّ قُرْآنٌ ، فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي ، قَالَ : فَقُلْتُ : لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِيَّ قُرْآنٌ ، قَالَ : فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ قَرَأَ : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا " .
اسلم روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ایک سفر میں جا رہے تھے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا آپ نے پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ تیسری مرتبہ پھر پوچھا اور جب اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے (اپنے آپ کو) کہا تیری ماں تجھ پر روئے تو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مرتبہ عاجزی سے سوال کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مرتبہ بھی جواب نہیں دیا۔عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اپنی اونٹنی کو دوڑایا اور لوگوں سے آگے ہو گیا (آپ کے برابر چلنا چھوڑ دیا) مجھے خوف تھا کہ کہیں اس حرکت پر میرے بارے میں کوئی آیت نازل نہ ہو جائے ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ میں نے ایک پکارنے والے کو سنا جو پکار رہا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے سوچا مجھے تو خوف تھا ہی کہ میرے بارے میں کچھ وحی نازل ہو گی۔عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے آپ کو سلام کیا (سلام کے جواب کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر! آج رات مجھ پر ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ پسند ہے جن پر سورج نکلتا ہے۔ پھر آپ نے سورۃ «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» کی تلاوت فرمائی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۱۲ کا خلاصہ
یہ حدیث سفر کے ایک واقعے کو بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم رات میں سفر کر رہے تھے اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے ایک بات پوچھی، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے جواب نہ دیا۔ انہوں نے تین مرتبہ پوچھا، پھر خود کو ملامت کی اور لوگوں سے آگے نکل گئے، اس ڈر سے کہ کہیں ان کے بارے میں کوئی آیت نازل نہ ہو جائے۔ کچھ دیر بعد انہیں بلایا گیا۔ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے اور سلام کیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ آج رات مجھ پر ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ پسند ہے جن پر سورج نکلتا ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے إنا فتحنا لك فتحا مبينا تلاوت فرمائی۔ اس حدیث میں سورۃ الفتح کی فضیلت اور صحابی کے ادب دونوں نظر آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۃ الفتح کے نزول پر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس کی خاص محبوبیت بیان فرمائی۔
- عمر رضی اللہ عنہ نے بار بار سوال کے بعد اپنے عمل کا جائزہ لیا۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے جواب نہ دینے میں بھی صحابہ ادب اور خوف رکھتے تھے۔
- قرآن کا نزول نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے لیے بڑی خوشی کا سبب تھا۔
