صحیح بخاری حدیث ۴۸۳۸ - نبی صلى الله عليه وسلم کے اخلاق اور پیغام
نبی صلى الله عليه وسلم کے اخلاق، توکل اور دعوت توحید
صحیح بخاری : ۴۸۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۳۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْقُرْآنِ " يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا سورة الأحزاب آية 45 ، قَالَ فِي التَّوْرَاةِ : يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ ، أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي ، سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ لَيْسَ بِفَظٍّ ، وَلَا غَلِيظٍ ، وَلَا سَخَّابٍ بِالْأَسْوَاقِ ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَةَ بِالسَّيِّئَةِ ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ ، وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِأَنْ يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَيَفْتَحَ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا ، وَآذَانًا صُمًّا ، وَقُلُوبًا غُلْفًا " .
عبداللہ بن عمرو بن عاص روایت:
یہ آیت جو قرآن میں ہے «يا أيها النبي إنا أرسلناك شاهدا ومبشرا ونذيرا» ”اے نبی! بیشک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہی اللہ تعالیٰ نے توریت میں بھی فرمایا تھا ”اے نبی! بیشک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور بشارت دینے والا اور ان پڑھوں (عربوں) کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔آپ میرے بندے ہیں اور میرے رسول ہیں۔ میں نے آپ کا نام متوکل رکھا، آپ نہ بدخو ہیں اور نہ سخت دل اور نہ بازاروں میں شور کرنے والے اور نہ وہ برائی کا بدلہ برائی سے دیں گے بلکہ معافی اور درگزر سے کام لیں گے اور اللہ ان کی روح اس وقت تک قبض نہیں کرے گا جب تک کہ وہ کج قوم (عربی) کو سیدھا نہ کر لیں یعنی جب تک وہ ان سے «لا إله إلا الله» کا اقرار نہ کرا لیں پس اس کلمہ توحید کے ذریعہ وہ اندھی آنکھوں کو اور بہرے کانوں کو اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کو کھول دیں گے۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۸۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے اوصاف بیان کرتے ہیں۔ قرآن کی آیت میں آپ صلى الله عليه وسلم کو گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا کہا گیا۔ روایت میں توریت کے حوالے سے بھی آپ صلى الله عليه وسلم کے اوصاف بیان ہوئے کہ آپ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، متوکل ہیں، بدخو نہیں، سخت دل نہیں، بازاروں میں شور کرنے والے نہیں، برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے بلکہ معاف کرتے اور درگزر فرماتے ہیں۔ حدیث میں لا إله إلا الله کے ذریعے لوگوں کے دل، کان اور آنکھیں کھلنے کا ذکر ہے۔ یہ روایت شمائل نبوی، اخلاق رسول، اور دعوت توحید کا جامع بیان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کا پیغام توحید اور ہدایت کا پیغام ہے۔
- آپ صلى الله عليه وسلم کے اخلاق میں نرمی، عفو اور درگزر نمایاں تھے۔
- برائی کا جواب برائی سے نہ دینا نبوی اخلاق کا حصہ ہے۔
- لا إله إلا الله دلوں کی اصلاح کا بنیادی کلمہ ہے۔
