صحیح بخاری حدیث ۴۸۳۴ - سورۃ الفتح اور حدیبیہ
سورۃ الفتح کا صلح حدیبیہ سے تعلق
صحیح بخاری : ۴۸۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۳۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا سورة الفتح آية 1 ، قَالَ : الْحُدَيْبِيَةُ " .
انس روایت:
سورۃ الفتح صلح حدیبیہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۳۴ کا خلاصہ
یہ حدیث مختصر ہے مگر اس کا پیغام بہت واضح ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آیت إنا فتحنا لك فتحا مبينا صلح حدیبیہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی بظاہر صلح، صبر اور واپسی بھی اللہ کے نزدیک فتح ہو سکتی ہے۔ یہاں ہمیں صرف وہی بات لینی چاہیے جو روایت میں بیان ہوئی ہے: سورۃ الفتح کا تعلق حدیبیہ سے ہے۔ اس حدیث کو پڑھنے والا سورۃ الفتح، صلح حدیبیہ، اور فتح مبین کے معنی کو حدیث کی روشنی میں سمجھتا ہے۔ یہ روایت قرآن کے مفہوم کو حدیث کے ذریعے سمجھنے کی ایک صاف مثال ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۃ الفتح کا نزول صلح حدیبیہ سے جڑا ہوا ہے۔
- فتح ہمیشہ فوری جنگی کامیابی ہی نہیں ہوتی۔
- قرآن کی آیت کا مفہوم حدیث سے سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
- مختصر حدیث بھی بڑے دینی نکتے کو واضح کر سکتی ہے۔
