صحیح بخاری حدیث ۴۸۳۳ - سورۃ الفتح کی عظمت
سورۃ الفتح کی فضیلت اور نزول کا واقعہ
صحیح بخاری : ۴۸۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۳۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسِيرُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسِيرُ مَعَهُ لَيْلًا ، فَسَأَلَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ شَيْءٍ ، فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ سَأَلَهُ ، فَلَمْ يُجِبْهُ ، ثُمَّ سَأَلَهُ ، فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ثَكِلَتْ أُمُّ عُمَرَ نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ لَا يُجِيبُكَ ، قَالَ عُمَرُ : فَحَرَّكْتُ بَعِيرِي ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ أَمَامَ النَّاسِ وَخَشِيتُ أَنْ يُنْزَلَ فِيَّ قُرْآنٌ ، فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي ، فَقُلْتُ : لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِيَّ قُرْآنٌ ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ قَرَأَ : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا سورة الفتح آية 1 " .
´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ان کے والد نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں جا رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ رات کا وقت تھا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سوال کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر انہوں نے سوال کیا اور اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا، تیسری مرتبہ بھی انہوں نے سوال کیا لیکن آپ نے جواب نہیں دیا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، عمر کی ماں اسے روئے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تم نے تین مرتبہ سوال میں اصرار کیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کسی مرتبہ جواب نہیں دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اپنے اونٹ کو حرکت دی اور لوگوں سے آگے بڑھ گیا۔ مجھے خوف تھا کہ کہیں میرے بارے میں قرآن مجید کی کوئی آیت نہ نازل ہو۔ ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ایک پکارنے والے کی آواز میں نے سنی جو مجھے ہی پکار رہا تھا۔ میں نے کہا کہ مجھے تو خوف تھا ہی کہ میرے بارے میں کوئی آیت نہ نازل ہو جائے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر آج رات ایک سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے اس ساری کائنات سے زیادہ عزیز ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے پھر آپ نے سورۃ الفتح کی تلاوت فرمائی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۳۳ کا خلاصہ
اس روایت میں عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ وہ سفر میں رات کے وقت نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے سوال کرتے رہے، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے جواب نہ دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ کو فکر ہوئی کہ کہیں ان کے بارے میں قرآن نازل نہ ہو جائے۔ پھر انہیں بلایا گیا اور نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ آج رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے اس ساری چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے إنا فتحنا لك فتحا مبينا تلاوت فرمائی۔ یہ حدیث سورۃ الفتح کی فضیلت، وحی کے ادب، اور صحابہ کے خوف و احترام کو سامنے لاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کی خاموشی کے وقت اصرار سے بچنا ادب کے قریب ہے۔
- صحابہ قرآن کے نزول کے معاملے میں بہت حساس تھے۔
- سورۃ الفتح نبی صلى الله عليه وسلم کو بہت محبوب تھی۔
- وحی کا نزول اللہ کی طرف سے بڑی نعمت ہے۔
