صحیح بخاری حدیث ۴۸۳۲ - رشتے توڑنے سے بچنے کا حکم

رشتہ داری توڑنے سے بچیں: صلہ رحمی کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۳۲

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي الْمُزَرَّدِ بِهَذَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : فَهَلْ عَسَيْتُمْ سورة محمد آية 22 " .

معاویہ بن مزرد روایت:

´ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، ان کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں معاویہ بن مزرد نے خبر دی،` سابقہ حدیث کی طرح (اور یہ کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر تمہارا جی چاہے تو آیت اگر تم کنارہ کش رہو پڑھ لو۔

صحیح بخاری حدیث ۴۸۳۲ کا خلاصہ

یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ صلہ رحمی اسلام میں بہت اہم ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو آیت فهل عسيتم پڑھ لو۔ اس آیت میں زمین میں فساد اور رشتہ داری کاٹنے کا ذکر ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ رشتوں کا معاملہ صرف خاندان کی روایت یا رسم نہیں، بلکہ دینی ذمہ داری بھی ہے۔ آدمی کبھی غصے، انا یا شکایت کی وجہ سے رشتہ توڑ دیتا ہے، مگر یہ حدیث اسے سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا وہ اللہ کے پسندیدہ راستے پر ہے۔ صلہ رحمی کی حدیثیں ہمیں نرمی، تحمل اور تعلق برقرار رکھنے کا سبق دیتی ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رشتہ داری کاٹنے کو ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • قرآن کی آیت کے ذریعے صلہ رحمی کی اہمیت یاد دلائی گئی ہے۔
  • غصے میں تعلق ختم کرنے سے پہلے دینی پہلو سوچنا چاہیے۔
  • رشتے جوڑنے کی نیت دل میں زندہ رکھنی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں