صحیح بخاری حدیث ۷۳۸۰ - غیب کا علم اللہ ہی کو ہے
نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے علم غیب کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۳۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۸۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ ، وَهُوَ يَقُولُ : لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ سورة الأنعام آية 103 وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ الْغَيْبَ فَقَدْ كَذَبَ ، وَهُوَ يَقُولُ : لَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ " .
عائشہ روایت:
اگر تم سے کوئی یہ کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تو وہ غلط کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں خود کہتا ہے کہ نظریں اس کو دیکھ نہیں سکتیں اور جو کوئی کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے تھے تو غلط کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خود کہتا ہے کہ غیب کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دو باتیں صاف بیان کیں۔ پہلی یہ کہ جو شخص کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا، وہ غلط کہتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نظریں اسے نہیں پا سکتیں۔ دوسری یہ کہ جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے تھے، وہ بھی غلط کہتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ غیب کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ یہ حدیث علم غیب، عقیدہ، اور اللہ کی ذات کے بارے میں احتیاط کا سبق دیتی ہے۔ اس متن میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بات قرآن کی آیات سے ثابت کی۔ اس لیے اس حدیث کو سمجھتے ہوئے یہی کہنا چاہیے کہ غیب کا مستقل اور کامل علم اللہ کے ساتھ خاص ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بات اللہ بتاتا تھا، وہ وحی کے ذریعے معلوم ہوتی تھی؛ مگر اس حدیث کا جملہ واضح ہے کہ غیب کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غیب کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔
- عقیدے کی بات قرآن و حدیث سے ثابت کی جاتی ہے۔
- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے غلط دعوے کی صاف تردید کی۔
- اللہ کی ذات اور علم کے بارے میں محتاط زبان ضروری ہے۔
