صحیح بخاری حدیث ۷۳۹۵ - رات کو لیٹنے اور اٹھنے کی دعا

رات کی دعا: باسمك نموت ونحيا اور صبح کی حمد

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۹۵

حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : بِاسْمِكَ نَمُوتُ وَنَحْيَا ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " .

ابوذر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں لیٹنے جاتے تو کہتے «باسمك نموت ونحيا» ”ہم تیرے ہی نام سے مریں گے اور اسی سے زندہ ہوں گے۔“ اور جب بیدار ہوتے تو کہتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» ”تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف جانا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۳۹۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو لیٹتے وقت کہتے: تیرے نام سے ہم مریں گے اور تیرے نام سے زندہ ہوں گے۔ جب بیدار ہوتے تو کہتے: تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف جانا ہے۔ حدیث کا موضوع رات کی دعا اور صبح کی حمد ہے۔ اس میں انسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ نیند، بیداری، زندگی اور موت سب اللہ کے حکم سے ہیں۔ رات کو سونے کی دعا، صبح اٹھنے کی دعا، اور باسمك نموت ونحيا جیسے الفاظ اسی حدیث سے متعلق اہم سرچ الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رات کو لیٹتے وقت اللہ کا نام لینا چاہیے۔
  • صبح اٹھ کر اللہ کی حمد کرنی چاہیے۔
  • نیند اور بیداری اللہ کے اختیار میں ہیں۔
  • آخرت کی واپسی کا احساس روزانہ تازہ کیا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں