صحیح بخاری حدیث ۷۴۰۰ - عید کی نماز کے بعد قربانی

عید کی نماز کے بعد قربانی: ذبح میں وقت اور بسم اللہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۰۰

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدَبٍ ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ " صَلَّى ، ثُمَّ خَطَبَ ، فَقَالَ : مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ ، فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى ، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ ، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ " .

جندب روایت:

´ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے اور ان سے جندب رضی اللہ عنہ نے کہ` وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا ”جس نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تو اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح ابھی نہ کیا ہو تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۴۰۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں یوم النحر یعنی ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے۔ جس نے ابھی ذبح نہیں کیا، وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔ اس حدیث کا اصل پیغام قربانی کے وقت اور ذبح کے ادب سے متعلق ہے۔ قربانی نماز سے پہلے نہیں، بلکہ نماز کے بعد کی جاتی ہے۔ ساتھ ہی ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا بھی بیان ہوا ہے۔ عید قربان کی قربانی، نماز کے بعد قربانی، اور فليذبح باسم الله اس حدیث کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قربانی نماز عید کے بعد کی جاتی ہے۔
  • نماز سے پہلے ذبح کرنے والے کو بدل میں دوسرا جانور ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔
  • ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا چاہیے۔
  • قربانی میں وقت کی پابندی اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں