صحیح بخاری حدیث ۷۴۰۲ - خبیب رضی اللہ عنہ کی ثابت قدمی
خبیب رضی اللہ عنہ کی شہادت: اللہ کے لیے ثابت قدمی
صحیح بخاری : ۷۴۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۰۲
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ حَلِيفٌ لِبَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً مِنْهُمْ خُبَيْبٌ الْأَنْصَارِيُّ ، فَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ ، أَنَّ ابْنَةَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّهُمْ حِينَ اجْتَمَعُوا اسْتَعَارَ مِنْهَا مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا ، فَلَمَّا خَرَجُوا مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ ، قَالَ خُبَيْبٌ الْأَنْصَارِيُّ : وَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شِقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ فَقَتَلَهُ ابْنُ الْحَارِثِ ، فَأَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ خَبَرَهُمْ يَوْمَ أُصِيبُوا " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عضل اور قارہ والوں کی درخواست پر دس اکابر صحابہ کو جن میں خبیب رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کے ہاں بھیجا۔ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی کہ حارث کی صاحبزادی زینب نے انہیں بتایا کہ جب لوگ خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے آمادہ ہوئے (اور قید میں تھے) تو اسی زمانے میں انہوں نے ان سے صفائی کرنے کے لیے استرہ لیا تھا، جب وہ لوگ خبیب رضی اللہ عنہ کو حرم سے باہر قتل کرنے لے گئے تو انہوں نے یہ اشعار کہے۔ ”اور جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے اس کی پروا نہیں کہ مجھے کس پہلو پر قتل کیا جائے گا اور میرا یہ مرنا اللہ کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے گا تو میرے ٹکڑے ٹکڑے کئے ہوئے اعضاء پر برکت نازل کرے گا۔“ پھر ابن الحارث نے انہیں قتل کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اس حادثہ کی اطلاع اسی دن دی جس دن یہ حضرات شہید کئے گئے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں خبیب انصاری رضی اللہ عنہ کے واقعے کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہ کو بھیجا، ان میں خبیب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب انہیں قتل کے لیے حرم سے باہر لے جایا گیا تو انہوں نے اشعار کہے کہ جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے پروا نہیں کہ کس پہلو پر قتل کیا جاؤں؛ میرا مرنا اللہ کے لیے ہے۔ پھر انہیں قتل کر دیا گیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اسی دن اس حادثے کی خبر دی۔ حدیث کا موضوع شہادت، ایمان پر ثابت قدمی، اور اللہ کے لیے جان دینے کا جذبہ ہے، مگر بیان اسی واقعے تک محدود رہتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خبیب رضی اللہ عنہ نے قتل کے وقت اسلام پر ثابت قدمی دکھائی۔
- انہوں نے اپنی موت کو اللہ کے لیے قرار دیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس واقعے کی خبر دی۔
- مشکل وقت میں ایمان پر قائم رہنا اس روایت کا واضح سبق ہے۔
