صحیح بخاری حدیث ۷۴۱ - نماز میں خشوع اور رکوع کی درستگی

نماز میں خشوع کی حدیث: رکوع اور دل کی حاضری

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۱

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي ، هَا هُنَا وَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ رُكُوعُكُمْ وَلَا خُشُوعُكُمْ وَإِنِّي لأَرَاكُمْ وَرَاءَ ظَهْرِي " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، کیا تم سمجھتے ہو کہ میرا منہ ادھر (قبلہ کی طرف) ہے۔ اللہ کی قسم تمہارا رکوع اور تمہارا خشوع مجھ سے کچھ چھپا ہوا نہیں ہے، میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا ہوں۔

صحیح بخاری حدیث ۷۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع نماز میں خشوع اور رکوع کی درستگی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ میرا رخ صرف قبلہ کی طرف ہے، تمہارا رکوع اور خشوع مجھ سے چھپا ہوا نہیں۔ اس سے نماز پڑھنے والے کو یہ سبق ملتا ہے کہ نماز صرف ظاہری حرکتوں کا نام نہیں۔ رکوع کرتے وقت جسم بھی درست ہو اور دل بھی نماز کی طرف لگا ہو۔ نماز میں خشوع کا مطلب یہی ہے کہ بندہ سنجیدگی، ادب اور توجہ کے ساتھ اللہ کے سامنے کھڑا ہو۔ اس حدیث میں پیچھے سے دیکھنے کا ذکر بھی آیا ہے، اس لیے نمازی کو اپنی صف، رکوع اور اندرونی کیفیت میں لاپرواہی نہیں کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں رکوع کو سنجیدگی سے ادا کرنا چاہیے۔
  • خشوع نماز کا اہم حصہ ہے، اسے معمولی نہ سمجھا جائے۔
  • نمازی کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اس کی عبادت اللہ کے سامنے ہے۔
  • ظاہری نماز کے ساتھ دل کی توجہ بھی ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں