صحیح بخاری حدیث ۷۴۰ - نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا
نماز میں ہاتھ باندھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۴۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ " ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ : لَا ، أَعْلَمُهُ إِلَّا يَنْمِي ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : يُنْمَى ذَلِكَ وَلَمْ يَقُلْ يَنْمِي .
سہل بن سعد روایت:
لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھیں، ابوحازم بن دینار نے بیان کیا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے۔ اسماعیل بن ابی اویس نے کہا کہ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی جاتی تھی یوں نہیں کہا کہ پہنچاتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھیں۔ ابوحازم بن دینار نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا جاتا تھا۔ یہ روایت نماز میں ہاتھ باندھنے کے طریقے سے متعلق ہے۔ حدیث میں خاص طور پر دائیں ہاتھ کو بائیں کلائی پر رکھنے کا ذکر آیا ہے۔ اس سے نماز کے قیام کی ایک شکل سمجھ آتی ہے۔ متن میں جگہ، رکعت یا کسی دوسرے اختلافی پہلو کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے بات اسی حد تک رکھی جائے گی۔ ایک مسلمان کے لیے اہم بات یہ ہے کہ نماز کے آداب کو حدیث کے الفاظ کے مطابق سیکھے اور عمل میں سکون رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں دایاں ہاتھ بائیں کلائی پر رکھنے کا حکم بیان ہوا ہے۔
- یہ روایت قیام کی حالت کے ایک عملی ادب کو بتاتی ہے۔
- حدیث کے الفاظ سے آگے اضافی تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔
