صحیح بخاری حدیث ۷۴۲۳ - اللہ سے جنت الفردوس مانگو
جنت الفردوس کی دعا: اللہ سے فردوس مانگو
صحیح بخاری : ۷۴۲۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۲۳
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي هِلَالٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَامَ رَمَضَانَ ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نُنَبِّئُ النَّاسَ بِذَلِكَ ؟ ، قَالَ : إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ ، كُلُّ دَرَجَتَيْنِ مَا بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ ؟ ، فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی، رمضان کے روزے رکھے تو اللہ پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے۔ خواہ اس نے ہجرت کی ہو یا وہیں مقیم رہا ہو جہاں اس کی پیدائش ہوئی تھی۔“صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس کی اطلاع لوگوں کو نہ دے دیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ پس جب تم اللہ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ درمیانہ درجے کی جنت ہے اور بلند ترین اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایمان، نماز، رمضان کے روزے اور جنت کا ذکر فرمایا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے، اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا، خواہ وہ ہجرت کرے یا اپنی پیدائش کی جگہ پر رہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا ہم لوگوں کو یہ خوشخبری نہ دے دیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے پھر جنت کے سو درجوں کا ذکر فرمایا جو اللہ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیے ہیں، اور ہر دو درجوں کے درمیان آسمان و زمین جتنا فاصلہ ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ سے سوال کرو تو فردوس مانگو، کیونکہ وہ جنت کا درمیانی اور بلند حصہ ہے، اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان، نماز اور رمضان کے روزے کا جنت سے تعلق حدیث میں بیان ہوا۔
- جنت میں سو درجوں کا ذکر آیا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ سے فردوس مانگنے کی تعلیم دی۔
- فردوس کے اوپر رحمان کے عرش اور اس سے نہروں کے نکلنے کا بیان حدیث میں ہے۔
