صحیح بخاری حدیث ۷۴۴۸ - صبر اور رحم دلی
صبر کی حدیث: اللہ ہی لیتا ہے، اللہ ہی دیتا ہے
صحیح بخاری : ۷۴۴۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۴۸
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ ، قَالَ : " كَانَ ابْنٌ لِبَعْضِ بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهَا ، فَأَرْسَلَ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ ، فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ مَعَهُ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، فَلَمَّا دَخَلْنَا نَاوَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيَّ وَنَفْسُهُ تَقَلْقَلُ فِي صَدْرِهِ حَسِبْتُهُ ، قَالَ : كَأَنَّهَا شَنَّةٌ ، فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : أَتَبْكِي ؟ ، فَقَالَ : إِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " .
اسامہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی (زینب رضی اللہ عنہا) کا لڑکا جاں کنی کے عالم میں تھا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہلایا کہ اللہ ہی کا وہ ہے جو وہ لیتا ہے اور وہ بھی جسے وہ دیتا ہے اور سب کے لیے ایک مدت مقرر ہے، پس صبر کرو اور اسے ثواب کا کام سمجھو۔ لیکن انہوں نے پھر دوبارہ بلا بھیجا اور قسم دلائی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور میں بھی آپ کے ساتھ چلا۔ معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی ساتھ تھے۔جب ہم صاحبزادی کے گھر میں داخل ہوئے تو لوگوں نے بچے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گود میں دے دیا۔ اس وقت بچہ کا سانس اکھڑ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسا پرانی مشک۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر رو دئیے تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، آپ روتے ہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں میں رحم کرنے والوں پر ہی رحم کھاتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع صبر اور رحم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بچے کی حالت سخت تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیجا کہ اللہ ہی کا ہے جو وہ لیتا ہے، اور اللہ ہی کا ہے جو وہ دیتا ہے، اور ہر ایک کے لیے ایک مقرر وقت ہے۔ پھر صبر کرنے اور ثواب کی نیت رکھنے کی ہدایت فرمائی۔ جب دوبارہ بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ بچے کی تکلیف دیکھ کر آپ رو پڑے۔ اس پر سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اپنے رحم کرنے والے بندوں پر رحم فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصیبت میں صبر کا مطلب دل کو پتھر بنانا نہیں۔ آنکھ کا آنسو رحم کی علامت ہو سکتا ہے، مگر زبان اور دل کو اللہ کے فیصلے پر راضی رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مصیبت میں بندہ اللہ کی ملکیت اور مقرر وقت کو یاد رکھے۔
- صبر کے ساتھ ثواب کی امید رکھنا بہتر رویہ ہے۔
- رونا رحم کی وجہ سے ہو تو یہ صبر کے خلاف نہیں۔
- اللہ رحم کرنے والے بندوں پر رحم فرماتا ہے۔
