صحیح بخاری حدیث ۷۴۵۴ - تقدیر اور انجام
تقدیر کی حدیث: رزق، موت، عمل اور انجام کا لکھا جانا
صحیح بخاری : ۷۴۵۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۵۴
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ : " أَنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَهُ ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَهُ ، ثُمَّ يُبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَلَكُ ، فَيُؤْذَنُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ ، فَيَكْتُبُ رِزْقَهُ ، وَأَجَلَهُ ، وَعَمَلَهُ ، وَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ ، ثُمَّ يَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى لَا يَكُونُ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ إِلَّا ذِرَاعٌ ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ ، فَيَدْخُلُ النَّارَ ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ إِلَّا ذِرَاعٌ ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ ، فَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَدْخُلُهَا " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا جو صادق و مصدق ہیں کہ انسان کا نطفہ ماں کے پیٹ میں چالیس دن اور راتوں تک جمع رہتا ہے پھر وہ خون کی پھٹکی بن جاتا ہے، پھر وہ گوشت کا لوتھڑا ہو جاتا ہے پھر اس کے بعد فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور اسے چار چیزوں کا حکم ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اس کی روزی، اس کی موت، اس کا عمل اور یہ کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت لکھ لیتا ہے۔پھر اس میں روح پھونکتا ہے اور تم میں سے ایک شخص جنت والوں کے سے عمل کرتا ہے اور جب اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فرق رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر غالب آتی ہے اور وہ دوزخ والوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص دوزخ والوں کے عمل کرتا ہے اور جب اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو تقدیر غالب آتی ہے اور جنت والوں کے کام کرنے لگتا ہے، پھر جنت میں داخل ہوتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع تقدیر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی ماں کے پیٹ میں تخلیق کے مراحل بیان فرمائے: پہلے نطفہ، پھر علقہ، پھر مضغہ۔ اس کے بعد فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور چار چیزیں لکھنے کا حکم ہوتا ہے: رزق، موت، عمل، اور یہ کہ وہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت۔ پھر روح پھونکی جاتی ہے۔ حدیث کے آخر میں انسان کے انجام کا ذکر ہے کہ کوئی شخص جنت والوں جیسے عمل کرتا دکھائی دیتا ہے، پھر تقدیر غالب آتی ہے اور اس کا انجام بدل جاتا ہے؛ اسی طرح دوسری صورت بھی بیان ہوئی ہے۔ اس حدیث میں تقدیر کی حدیث، انسان کی تخلیق، رزق اور انجام کا موضوع ایک ساتھ آتا ہے۔ اس سے بندہ اپنے انجام کے بارے میں غفلت کے بجائے اللہ سے ثابت قدمی مانگتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انسان کی تخلیق کے مراحل اللہ کے حکم سے ہوتے ہیں۔
- رزق، موت، عمل اور انجام کا لکھا جانا حدیث میں بیان ہوا ہے۔
- انسان کو اپنے آخری انجام کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔
- نیک عمل کے ساتھ اللہ سے ثابت قدمی مانگنا ضروری ہے۔
