صحیح بخاری حدیث ۷۴۵۵ - وحی اور اللہ کا حکم
وحی کی حدیث: فرشتے اللہ کے حکم سے اترتے ہیں
صحیح بخاری : ۷۴۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۵۵
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا جِبْرِيلُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا ، فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا سورة مريم آية 64 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ : كَانَ هَذَا الْجَوَابَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے جبرائیل! آپ کو ہمارے پاس اس سے زیادہ آنے میں کیا رکاوٹ ہے جتنا آپ آتے رہتے ہیں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وما نتنزل إلا بأمر ربك له ما بين أيدينا وما خلفنا» ”اور ہم نازل نہیں ہوتے لیکن آپ کے رب کے حکم سے، اسی کا ہے وہ سب کچھ جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے“ الآیہ۔ بیان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی جواب آیت میں اترا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع وحی کا حکم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا کہ آپ ہمارے پاس پہلے سے زیادہ کیوں نہیں آتے؟ اس پر آیت نازل ہوئی کہ ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترتے، جو کچھ ہمارے سامنے ہے، جو پیچھے ہے، سب اسی کا ہے۔ حدیث کا پیغام صاف ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کا آنا بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے۔ وحی، فرشتوں کی آمد، اور غیب کے معاملات انسان یا فرشتے کی مرضی سے نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے حکم سے ہوتے ہیں۔ اس لیے بندے کو اللہ کے فیصلے پر اعتماد رکھنا چاہیے۔ یہ وحی کی حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ دین کی خبر اور آسمانی پیغام اللہ کے اختیار سے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فرشتے اللہ کے حکم کے بغیر نہیں اترتے۔
- وحی کا معاملہ مکمل طور پر اللہ کے اختیار میں ہے۔
- جو سامنے اور پیچھے ہے، سب اللہ ہی کا ہے۔
- بندے کو اللہ کے حکم اور وقت پر اعتماد رکھنا چاہیے۔
