صحیح بخاری حدیث ۷۴۵۶ - روح اور محدود علم
روح کیا ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں محدود علم
صحیح بخاری : ۷۴۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۵۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ ، فَمَرَّ بِقَوْمٍ مِنْ الْيَهُودِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ ؟ وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا تَسْأَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ ، فَسَأَلُوهُ ، فَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى الْعَسِيبِ وَأَنَا خَلْفَهُ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ ، فَقَال : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : قَدْ قُلْنَا لَكُمْ لَا تَسْأَلُوهُ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں جا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کی چھڑی پر ٹیکا لیتے جاتے تھے۔ پھر آپ یہودیوں کی ایک جماعت سے گزرے تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا کہ ان سے روح کے متعلق پوچھو اور بعض نے کہا کہ اس کے متعلق مت پوچھو۔آخر انہوں نے پوچھا تو آپ چھڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے اور میں آپ کے پیچھے تھا۔ میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ چنانچہ آپ نے یہ آیت پڑھی «ويسألونك عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» ”اور لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دیجئیے کہ روح میرے رب کے امر «مٰن» سے اور تمہیں علم بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔“ اس پر بعض یہودیوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم نے کہا نہ تھا کہ مت پوچھو۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع روح کا علم ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں تھے۔ یہودیوں کی ایک جماعت نے روح کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش کھڑے رہے، یہاں تک کہ وحی نازل ہوئی۔ پھر آپ نے آیت پڑھی کہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجئے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے، اور تمہیں علم بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔ اس حدیث میں روح کی حقیقت، انسان کے محدود علم، اور وحی کے ذریعے جواب آنے کا ذکر ہے۔ اس لیے جہاں اللہ نے علم محدود رکھا ہو، وہاں بندے کو اپنی حد پہچاننی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روح اللہ کے امر میں سے ہے۔
- انسان کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
- ہر سوال کا جواب انسان کی عقل سے معلوم نہیں ہو سکتا۔
- غیبی معاملات میں وحی کی رہنمائی ہی اصل ہے۔
