صحیح بخاری حدیث ۷۴۵۷ - جہاد کی نیت

جہاد فی سبیل اللہ کی حدیث: نیت خالص ہو تو اجر ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۵۷

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَاتِهِ بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا اور اس کے لیے نکلنے کا مقصد اس کے راستے میں جہاد اور اس کے کلام کی تصدیق کے سوا اور کچھ نہیں تھا تو اللہ اس کا ضامن ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے (اگر وہ شہید ہو گیا) یا ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اسے وہیں واپس لوٹائے جہاں سے وہ آیا تھا۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۴۵۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع جہاد کی نیت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلے، اور اسے گھر سے نکالنے والی چیز صرف اللہ کے راستے کا جہاد اور اللہ کے کلام کی تصدیق ہو، تو اللہ اس کا ضامن ہے۔ حدیث میں دو انجام بیان ہوئے: یا اسے جنت میں داخل کرے گا، یا اسے اجر اور غنیمت کے ساتھ اسی جگہ واپس لوٹائے گا جہاں سے وہ نکلا تھا۔ اس حدیث میں اصل زور نیت پر ہے۔ صرف لڑائی، جوش یا نام نہیں، بلکہ اللہ کے راستے میں ہونا اور اس کے کلام کی تصدیق اصل شرط کے طور پر بیان ہوئی ہے۔ اس لیے جہاد فی سبیل اللہ کی حدیث میں نیت کی پاکیزگی مرکزی بات ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے راستے میں نکلنے کی نیت خالص ہونی چاہیے۔
  • حدیث میں اللہ کے کلام کی تصدیق کا ذکر کیا گیا ہے۔
  • اجر یا غنیمت کے ساتھ واپسی بھی حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
  • دینی عمل میں مقصد اور نیت بہت اہم ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں