صحیح بخاری حدیث ۷۴۵۸ - اللہ کا کلمہ بلند کرنا

اللہ کے راستے میں کون ہے؟ نیت اور کلمہ اللہ کی بلندی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۵۸

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : الرَّجُلُ يُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَيُقَاتِلُ شَجَاعَةً وَيُقَاتِلُ رِيَاءً ، فَأَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .

ابوموسیٰ روایت:

ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ کوئی شخص حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے، کوئی بہادری کی وجہ سے لڑتا ہے اور کوئی دکھاوے کے لیے لڑتا ہے۔ تو ان میں سے کون اللہ کے راستے میں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اس لیے لڑتا ہے کہ اللہ کا کلمہ ہی بلند رہے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۴۵۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع جہاد کی نیت ہے۔ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کوئی شخص حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے، کوئی بہادری کے لیے، اور کوئی دکھاوے کے لیے؛ ان میں سے کون اللہ کے راستے میں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف جواب دیا کہ جو اس لیے لڑے کہ اللہ کا کلمہ بلند رہے، وہ اللہ کے راستے میں ہے۔ اس حدیث میں نیت کا معیار بہت واضح ہے۔ صرف بہادری، قومیت، غصہ یا لوگوں کو دکھانا کافی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ مقصد اللہ کے کلمے کی بلندی ہو۔ اس لیے جو لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کی حدیث تلاش کرتے ہیں، انہیں اس حدیث میں نیت کا بنیادی اصول ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دکھاوے کے لیے لڑنا اللہ کے راستے میں ہونا نہیں بتایا گیا۔
  • حمیت یا صرف بہادری مقصد بن جائے تو یہ معیار نہیں۔
  • اللہ کے کلمے کی بلندی اصل معیار بیان ہوئی ہے۔
  • ہر بڑے عمل میں نیت کی درستگی ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں