صحیح بخاری حدیث ۷۴۶۵ - تہجد اور انسانی بحث

تہجد کی ترغیب اور انسان کا بحث کرنے والا مزاج

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۶۵

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي أَخِي عَبْدُ الْحَمِيدِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَام أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً ، فَقَالَ لَهُمْ : أَلَا تُصَلُّونَ ؟ ، قَالَ عَلِيٌّ : فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِب فَخِذَهُ ، وَيَقُولُ : وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54 .

علی بن ابی طالب روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات میں تشریف لائے اور ان سے کہا کیا تم لوگ نماز تہجد نہیں پڑھتے۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہے گا اٹھا دے گا۔ جب میں نے یہ بات کہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ میں نے آپ کو واپس جاتے وقت یہ کہتے سنا۔ آپ اپنی ران پر ہاتھ مار کر یہ فرما رہے تھے «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا» کہ ”انسان بڑا ہی بحث کرنے والا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۴۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع تہجد اور انسان کا جدل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے اور فرمایا: کیا تم لوگ نماز نہیں پڑھتے؟ علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ اٹھانا چاہے گا اٹھا دے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے اور کوئی جواب نہ دیا، مگر جاتے ہوئے اپنی ران پر ہاتھ مار کر آیت پڑھی کہ انسان سب سے زیادہ بحث کرنے والا ہے۔ اس حدیث میں تہجد کی ترغیب، اللہ کے قبضے میں جانوں کا ہونا، اور انسان کے جواب دینے والے مزاج کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک کام کی دعوت آئے تو عذر کے بجائے عمل کی طرف بڑھنا بہتر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے رات کی نماز کی ترغیب دی۔
  • انسان کی جان اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
  • نیک کام کی دعوت پر غیر ضروری بحث مناسب نہیں۔
  • حدیث میں انسان کے بحث کرنے والے مزاج کی طرف اشارہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں