صحیح بخاری حدیث ۱۱۲۷ - تہجد کی نماز اور انسان کی بحث

تہجد کی نماز: نیکی کی دعوت پر بحث کے بجائے عمل

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۲۷

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَام لَيْلَةً فَقَالَ : أَلَا تُصَلِّيَانِ ؟ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا ، فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْنَا ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ , وَهُوَ يَقُولُ : وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ".

علی بن ابی طالب روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم لوگ (تہجد کی) نماز نہیں پڑھو گے؟ میں عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضہ میں ہیں، جب وہ چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا۔ ہماری اس عرض پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ران پر ہاتھ مار کر (سورۃ الکہف کی یہ آیت پڑھ رہے تھے) آدمی سب سے زیادہ جھگڑالو ہے «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا»۔

صحیح بخاری حدیث ۱۱۲۷ کا خلاصہ

یہ حدیث تہجد کی نماز اور نفل عبادت کی طرف نرم مگر سنجیدہ توجہ دلاتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم رات کے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا کہ کیا تم نماز نہیں پڑھو گے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس بات پر کوئی بحث نہیں کی اور واپس تشریف لے گئے۔ مگر جاتے ہوئے آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ آیت پڑھی کہ انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ اس سے سمجھ آتا ہے کہ اچھی نصیحت ملے تو فوراً عذر تراشنے کے بجائے اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ رات کی نماز، تہجد کی فضیلت، نفل نماز اور اللہ پر بھروسہ جیسے موضوعات اس حدیث میں صاف نظر آتے ہیں، مگر ساتھ ہی یہ بھی سبق ملتا ہے کہ تقدیر کی بات کو عمل سے بچنے کا بہانہ نہ بنایا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تہجد کی نماز کے لیے دوسروں کو نرمی سے جگانا اور ترغیب دینا درست عمل ہے۔
  • نیند اور جاگنا اللہ کے اختیار میں ہے، مگر نیکی کی دعوت پر عذر بنانے سے بچنا چاہیے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جواب میں سخت کلامی نہیں کی، بلکہ خاموشی کے ساتھ تنبیہ کا انداز اختیار کیا۔
  • اچھی بات سن کر بحث کرنے کے بجائے اپنے عمل پر توجہ دینی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں