صحیح بخاری حدیث ۱۱۲۸ - چاشت کی نماز اور نفل عبادت کی حکمت

چاشت کی نماز: نفل عبادت اور امت پر آسانی کی نبوی حکمت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۲۸

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ ، وَمَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا " .

´ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک نے ابن شہاب زہری سے بیان کیا، ان سے عروہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کام کو چھوڑ دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا کرنا پسند ہوتا۔ اس خیال سے ترک کر دیتے کہ دوسرے صحابہ بھی اس پر (آپ کو دیکھ کر) عمل شروع کر دیں اور اس طرح وہ کام ان پر فرض ہو جائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی لیکن میں پڑھتی ہوں۔

صحیح بخاری حدیث ۱۱۲۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع چاشت کی نماز اور نفل عبادت میں آسانی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بعض اوقات ایسا عمل چھوڑ دیتے تھے جو آپ صلى الله عليه وسلم کو پسند ہوتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اگر صحابہ کرام آپ صلى الله عليه وسلم کو وہ عمل کرتے دیکھتے تو وہ بھی اسے پابندی سے شروع کر دیتے، پھر اندیشہ تھا کہ کہیں وہ عمل امت پر فرض نہ ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم امت کے لیے آسانی چاہتے تھے۔ حدیث میں خاص طور پر چاشت کی نماز کا ذکر ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے نہیں پڑھا، جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اسے پڑھتی تھیں۔ اس لیے یہ حدیث نوافل، چاشت کی نماز، نفلی عبادت اور فرض ہو جانے کے اندیشے کے بارے میں بہت اہم بات بتاتی ہے: دین میں عمل کے ساتھ آسانی اور حکمت بھی دیکھی جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم امت پر آسانی چاہتے تھے اور بعض پسندیدہ اعمال اسی وجہ سے چھوڑ دیتے تھے۔
  • نفل عبادت کو فرض سمجھ کر لازم کر لینا درست طرز نہیں، جب تک حدیث میں اسے فرض نہ کہا گیا ہو۔
  • چاشت کی نماز کا ذکر اس حدیث میں نفل عمل کے طور پر آیا ہے، نہ کہ فرض عمل کے طور پر۔
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس نماز کو پڑھتی تھیں، اس لیے نیک عمل اختیار کرنے میں سمجھ اور اعتدال ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں