صحیح بخاری حدیث ۷۴۸۱ - روایت اور قراءت کی تحقیق

قراءت اور سند: حدیث کی نقل میں احتیاط کا سبق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۸۱

قَالَ عَلِيٌّ ، وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِهَذَا ، قَالَ سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ عَلِيٌّ : قُلْتُ لِسُفْيَانَ قَالَ : سَمِعْتُ عِكْرِمَة ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ : إِنَّ إِنْسَانًا رَوَى عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ أَنَّهُ قَرَأَ فُرِّغَ ، قَالَ سُفْيَانُ : هَكَذَا قَرَأَ عَمْرٌو فَلَا أَدْرِي سَمِعَهُ هَكَذَا أَمْ لَا قَالَ سُفْيَانُ : وَهِيَ قِرَاءَتُنَا .

ابوہریرہ روایت:

´اور علی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عمرو نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث بیان کی اور سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ان سے عمرو نے بیان کیا، انہوں نے عکرمہ سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا کہ انہوں نے کہا کہ` میں نے عکرمہ سے سنا، انہوں نے کہا میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا تو سفیان بن عیینہ نے اس کی تصدیق کی۔ علی نے کہا میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا کہ ایک شخص نے عمر سے روایت کی، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ نے «فزع» پڑھا۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح پڑھا تھا، مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے اسی طرح ان سے سنا تھا یا نہیں، سفیان نے کہا کہ یہی ہماری قرآت ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۴۸۱ کا خلاصہ

یہ روایت عام وعظ کے انداز کی حدیث نہیں بلکہ نقل، سند اور قراءت کی تحقیق سے متعلق ہے۔ علی بن عبداللہ مدینی نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا کہ کیا انہوں نے عمرو سے، انہوں نے عکرمہ سے، اور عکرمہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا؟ سفیان نے اس کی تصدیق کی۔ پھر ایک قراءت کے لفظ کے بارے میں سوال ہوا کہ کسی نے اسے ایک اور انداز سے روایت کیا ہے۔ سفیان نے بتایا کہ عمرو بن دینار نے بھی اسی طرح پڑھا تھا، مگر انہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے اسے اسی طرح سنا تھا یا نہیں۔ آخر میں سفیان نے کہا کہ یہی ہماری قراءت ہے۔ اس متن سے علمی امانت، سند کی جانچ اور الفاظ کی احتیاط کا سبق ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث اور قراءت کی نقل میں سند کی تصدیق اہم ہے۔
  • راوی کے سماع کے بارے میں سوال کرنا علمی احتیاط کا حصہ ہے۔
  • جب کسی بات کے سننے میں یقین نہ ہو تو اسے صاف بیان کرنا چاہیے۔
  • علمی اختلاف میں الفاظ کی تحقیق ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں