صحیح بخاری حدیث ۷۴۸۲ - خوش آوازی سے قرآن پڑھنا

خوش آوازی سے قرآن کی تلاوت: يتغنى بالقرآن کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۸۲

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ " ، وَقَالَ صَاحِبٌ لَهُ يُرِيدُ أَنْ يَجْهَرَ بِهِ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی بات کو اتنا متوجہ ہو کر نہیں سنتا جتنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن پڑھنا متوجہ ہو کر سنتا ہے جو خوش آوازی سے اس کو پڑھتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ایک ساتھی نے کہا اس حدیث میں «يتغنى بالقرآن» کا یہ معنی ہے کہ اس کو پکار کر پڑھتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۴۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن پڑھنا سنتا ہے، جو خوش آوازی سے اسے پڑھتا ہے۔ روایت میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ایک ساتھی نے یہ معنی بیان کیا کہ يتغنى بالقرآن سے مراد یہ ہے کہ اسے پکار کر، یعنی آواز کے ساتھ پڑھتا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع قرآن کی تلاوت ہے۔ اس میں خوش آوازی، آواز کے ساتھ پڑھنے اور اللہ کے کلام کی عظمت کا ذکر ہے۔ متن سے یہی سمجھ آتا ہے کہ قرآن پڑھنا صرف الفاظ ادا کرنا نہیں، بلکہ ادب اور اچھے انداز کے ساتھ پڑھنا بھی مطلوب ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کی تلاوت کو اچھے انداز سے کرنا چاہیے۔
  • خوش آوازی سے قرآن پڑھنے کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
  • يتغنى بالقرآن کی ایک وضاحت آواز کے ساتھ پڑھنا ہے۔
  • اللہ کے کلام کی تلاوت ادب کے ساتھ ہونی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں