صحیح بخاری حدیث ۷۴۸۳ - قیامت میں آدم علیہ السلام کو ندا

قیامت کی ندا: آدم علیہ السلام اور دوزخ کے لشکر کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۸۳

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ اللَّهُ : يَا آدَمُ ، فَيَقُولُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، فَيُنَادَى بِصَوْتٍ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُخْرِجَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ بَعْثًا إِلَى النَّارِ " .

ابو سعید خدری روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے آدم! وہ کہیں گے «لبيك وسعديك‏.‏» پھر بلند آواز سے ندا دے گا کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنی نسل میں سے دوزخ کا لشکر نکال۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۴۸۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کا ایک سخت منظر بیان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکارے گا۔ آدم علیہ السلام جواب دیں گے: لبیک وسعدیک۔ پھر بلند آواز سے ندا دی جائے گی کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنی نسل میں سے دوزخ کا لشکر نکالو۔ یہ حدیث مختصر ہے، مگر اس میں آخرت کی سنجیدگی بہت واضح ہے۔ متن میں آدم علیہ السلام کی فرمانبردارانہ جواب دہی اور اللہ کے حکم کا ذکر ہے۔ اس حدیث سے انسان کو یہ سوچ ملتی ہے کہ قیامت کا معاملہ معمولی نہیں۔ یہاں دنیا کے نسب، تعداد یا ظاہری تعلقات کے بجائے اللہ کا حکم غالب ہو گا۔ اس لیے انسان کو اپنے انجام کی فکر کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کے دن اللہ کا حکم ہی فیصلہ کن ہو گا۔
  • آدم علیہ السلام کا جواب فرمانبرداری کو ظاہر کرتا ہے۔
  • دوزخ کا ذکر انسان کو آخرت کی فکر دلاتا ہے۔
  • دنیا کی زندگی کو آخرت سے غافل ہو کر نہیں گزارنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں