صحیح بخاری حدیث ۷۵۳۳ - قرآن والی امت پر اللہ کا فضل

امت محمدیہ کی فضیلت: قرآن پر عمل اور اللہ کا فضل

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۳۳

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَنْ سَلَفَ مِنَ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ أُوتِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ ، فَعَمِلُوا بِهَا حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ ثُمَّ عَجَزُوا ، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ، ثُمَّ أُوتِيَ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ الْإِنْجِيلَ ، فَعَمِلُوا بِهِ حَتَّى صُلِّيَتِ الْعَصْرُ ، ثُمَّ عَجَزُوا فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ، ثُمَّ أُوتِيتُمُ الْقُرْآنَ فَعَمِلْتُمْ بِهِ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، فَأُعْطِيتُمْ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ ، فَقَالَ أَهْلُ الْكِتَابِ : هَؤُلَاءِ أَقَلُّ مِنَّا عَمَلًا وَأَكْثَرُ أَجْرًا ، قَالَ اللَّهُ : هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا ؟ ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَهُوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گذشتہ امتوں کے مقابلہ میں تمہارا وجود ایسا ہے جیسے عصر اور مغرب کے درمیان کا وقت، اہل توریت کو توریت دی گئی تو انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ دن آدھا ہو گیا اور وہ عاجز ہو گئے۔ پھر انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی اور انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا، انہیں بھی ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر تمہیں قرآن دیا گیا اور تم نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ مغرب کا وقت ہو گیا، تمہیں دو دو قیراط دئیے گئے، اس پر کتاب نے کہا کہ یہ ہم سے عمل میں کم ہیں اور اجر میں زیادہ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا میں نے تمہارا حق دینے میں کوئی ظلم کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں دوں۔

صحیح بخاری حدیث ۷۵۳۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں پچھلی امتوں اور امت محمدیہ کی مثال وقت کے حساب سے دی گئی ہے۔ اہل توریت نے عمل کیا، پھر اہل انجیل نے عمل کیا، پھر امت محمدیہ کو قرآن دیا گیا اور اس نے مغرب تک عمل کیا۔ حدیث کے مطابق اس امت کو دو دو قیراط دیے گئے، جبکہ پہلے والوں کو ایک ایک قیراط ملا۔ جب اہل کتاب نے کہا کہ یہ عمل میں کم اور اجر میں زیادہ ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا میں نے تمہارا حق دینے میں کوئی ظلم کیا؟ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہوں دوں۔ اس حدیث کا اصل پیغام اللہ کا فضل، عدل اور قرآن پر عمل کی قدر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن پر عمل کرنا اس حدیث میں امت محمدیہ کی خاص پہچان کے طور پر آیا ہے۔
  • اللہ اپنے بندوں کے حق میں ظلم نہیں کرتا۔
  • زیادہ اجر اللہ کے فضل سے ملتا ہے۔
  • پچھلی امتوں کی مثال سے وقت، عمل اور اجر کا فرق سمجھایا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں