صحیح بخاری حدیث ۷۵۴۳ - توریت کا حکم چھپانے کا واقعہ
توریت کا حکم اور عدل: چھپائی گئی آیت ظاہر ہوئی
صحیح بخاری : ۷۵۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۴۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ زَنَيَا ، فَقَالَ لِلْيَهُودِ : مَا تَصْنَعُونَ بِهِمَا ؟ ، قَالُوا : نُسَخِّمُ وُجُوهَهُمَا وَنُخْزِيهِمَا ، قَالَ : فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ سورة آل عمران آية 93 فَجَاءُوا ، فَقَالُوا لِرَجُلٍ مِمَّنْ يَرْضَوْنَ : يَا أَعْوَرُ اقْرَأْ ، فَقَرَأَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَوْضِعٍ مِنْهَا ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ ، قَالَ : ارْفَعْ يَدَكَ ، فَرَفَعَ يَدَهُ ، فَإِذَا فِيهِ آيَةُ الرَّجْمِ تَلُوحُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ إِنَّ عَلَيْهِمَا الرَّجْمَ وَلَكِنَّا نُكَاتِمُهُ بَيْنَنَا ، فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُجِمَا فَرَأَيْتُهُ يُجَانِئُ عَلَيْهَا الْحِجَارَةَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور عورت لائے گئے، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے پوچھا کہ تم ان کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم ان کا منہ کالا کر کے انہیں رسوا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر توریت لاؤ اور اس کی تلاوت کرو اگر تم سچے ہو چنانچہ وہ (توریت) لائے اور ایک شخص سے جس پر وہ مطمئن تھے کہا کہ اے اعور! پڑھو۔ چنانچہ اس نے پڑھا اور جب اس کے ایک مقام پر پہنچا تو اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا ہاتھ اٹھاؤ، جب اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس میں آیت رجم بالکل واضح طور پر موجود تھی، اس نے کہا: اے محمد! ان پر رجم کا حکم تو واقعی ہے لیکن ہم اسے آپس میں چھپاتے ہیں۔ چنانچہ دونوں رجم کئے گئے، میں نے دیکھا کہ مرد عورت کو پتھر سے بچانے کے لیے اس پر جھکا پڑتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۵۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور عورت لائے گئے جنہوں نے زنا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے پوچھا کہ تم ان کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم منہ کالا کر کے رسوا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ توریت لاؤ اور پڑھو اگر تم سچے ہو۔ جب توریت پڑھی گئی تو پڑھنے والے نے ایک مقام پر ہاتھ رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھانے کو کہا تو وہاں رجم کی آیت واضح تھی۔ اس حدیث کا موضوع عدل، سچائی اور حکم چھپانے سے بچنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعوے کی سچائی کے لیے اصل کتاب لانے کو کہا گیا۔
- حکم چھپانا اس روایت میں غلط عمل کے طور پر سامنے آیا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاملے کو چھان بین کے ساتھ دیکھا۔
- حدیث میں توریت کے حکم کے ظاہر ہونے کا واقعہ بیان ہوا۔
