صحیح بخاری حدیث ۳۶۳۵ - تورات میں رجم کا حکم

تورات میں رجم کا حکم: سچائی چھپانے کا انجام

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۳۵

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا ، فَقَالَ : لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ ، فَقَالُوا : نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ ، فَقَالُوا : صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَجْنَأُ عَلَى الْمَرْأَةِ يَقِيهَا الْحِجَارَةَ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

یہود، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتایا کہ ان کے یہاں ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ رجم کے بارے میں تورات میں کیا حکم ہے؟ وہ بولے یہ کہ ہم انہیں رسوا کریں اور انہیں کوڑے لگائے جائیں۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ جھوٹے ہو۔ تورات میں رجم کا حکم موجود ہے۔ تورات لاؤ۔پھر یہودی تورات لائے اور اسے کھولا۔ لیکن رجم سے متعلق جو آیت تھی اسے ایک یہودی نے اپنے ہاتھ سے چھپا لیا اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کی عبارت پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ذرا اپنا ہاتھ تو اٹھاؤ جب اس نے ہاتھ اٹھایا تو وہاں آیت رجم موجود تھی۔ اب وہ سب کہنے لگے کہ اے محمد! عبداللہ بن سلام نے سچ کہا۔ بیشک تورات میں رجم کی آیت موجود ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان دونوں کو رجم کیا گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رجم کے وقت دیکھا۔ یہودی مرد اس عورت پر جھکا پڑتا تھا۔ اس کو پتھروں کی مار سے بچاتا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۶۳۵ کا خلاصہ

یہ حدیث عدل، سچائی اور دینی حکم چھپانے کے بارے میں اہم واقعہ بیان کرتی ہے۔ یہود رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے اور ایک مرد اور عورت کے زنا کا ذکر کیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ رجم کے بارے میں تورات میں کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم انہیں رسوا کرتے ہیں اور کوڑے لگاتے ہیں۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جھوٹ کہتے ہو، تورات میں رجم کا حکم موجود ہے۔ جب تورات لائی گئی تو ایک یہودی نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ کر پہلے اور بعد کی عبارت پڑھنا شروع کی۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ہاتھ اٹھانے کو کہا تو آیت سامنے آ گئی۔ پھر انہوں نے مان لیا کہ تورات میں رجم کی آیت موجود ہے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ حق بات چھپانا درست نہیں، اور فیصلہ ظاہر دلیل کے مطابق ہونا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی حکم کو جان بوجھ کر چھپانا غلط ہے۔
  • فیصلہ کرنے سے پہلے اصل دلیل پوچھنا عدل کا طریقہ ہے۔
  • عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے حق بات واضح کی۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے حکم ظاہر ہونے کے بعد فیصلہ فرمایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں