صحیح بخاری حدیث ۳۶۳۴ - ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا خواب
ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کا خواب: امت کی خدمت کا اشارہ
صحیح بخاری : ۳۶۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۳۴
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ فِي صَعِيدٍ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي بَعْضِ نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ بِيَدِهِ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا فِي النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ، وَقَالَ هَمَّامٌ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَعَ أَبُو بَكْرٍ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے (خواب میں) دیکھا کہ لوگ ایک میدان میں جمع ہو رہے ہیں۔ ان میں سے ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور ایک کنویں سے انہوں نے ایک یا دو ڈول پانی بھر کر نکالا، پانی نکالنے میں ان میں کچھ کمزوری معلوم ہوتی تھی اور اللہ ان کو بخشے۔پھر وہ ڈول عمر رضی اللہ عنہ نے سنبھالا۔ ان کے ہاتھ میں جاتے ہی وہ ایک بڑا ڈول ہو گیا میں نے لوگوں میں ان جیسا شہ زور پہلوان اور بہادر انسان ان کی طرح کام کرنے والا نہیں دیکھا (انہوں نے اتنے ڈول کھینچے) کہ لوگ اپنے اونٹوں کو بھی پلا پلا کر ان کے ٹھکانوں میں لے گئے۔ اور ہمام نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے بیان کر رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دو ڈول کھینچے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶۳۴ کا خلاصہ
یہ حدیث رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ایک خواب کو بیان کرتی ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے دیکھا کہ لوگ ایک میدان میں جمع ہیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور کنویں سے ایک یا دو ڈول پانی نکالا۔ ان کے پانی نکالنے میں کچھ کمزوری کا ذکر آیا، اور نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ انہیں بخشے۔ پھر وہ ڈول عمر رضی اللہ عنہ نے لیا تو ان کے ہاتھ میں وہ بڑا ڈول بن گیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں نے لوگوں میں ان جیسا کام کرنے والا نہیں دیکھا، یہاں تک کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو بھی پلا کر ان کے ٹھکانوں تک پہنچا دیا۔ اس حدیث میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت، قوت اور امت کے کام کا اشارہ ملتا ہے۔ تشریح میں حد سے بڑھنے کے بجائے حدیث کے الفاظ تک رہنا بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کے خواب میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کا خاص ذکر آیا۔
- ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے نبی صلى الله عليه وسلم نے مغفرت کی دعا فرمائی۔
- عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ڈول بڑا ہو گیا اور ان کی قوت عمل بیان ہوئی۔
- امت کی خدمت کو اس خواب میں پانی پلانے کے منظر سے بیان کیا گیا۔
