صحیح بخاری حدیث ۳۶۳۳ - جبرائیل علیہ السلام کی آمد

جبرائیل علیہ السلام کی حدیث: ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۳۳

حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، قَالَ : أُنْبِئْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُ ثُمَّ قَامَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِأُمِّ سَلَمَةَ مَنْ هَذَا أَوْ كَمَا ، قَالَ : قَالَ : قَالَتْ هَذَا دِحْيَةُ ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : ايْمُ اللَّهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلَّا إِيَّاهُ حَتَّى سَمِعْتُ خُطْبَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ جِبْرِيلَ أَوْ كَمَا ، قَالَ : قَالَ : فَقُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ : مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا ، قَالَ : مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ " .

ابوعثمان روایت:

مجھے یہ بات معلوم کرائی گئی کہ جبرائیل علیہ السلام ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے باتیں کرتے رہے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ جب جبرائیل علیہ السلام چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ سے فرمایا: معلوم ہے یہ کون صاحب تھے؟ یا ایسے ہی الفاظ ارشاد فرمائے۔ابوعثمان نے بیان کیا کہ ام سلمہ نے جواب دیا کہ یہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ تھے۔ ام سلمہ نے بیان کیا اللہ کی قسم میں سمجھے بیٹھی تھی کہ وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آخر جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا جس میں آپ جبرائیل علیہ السلام (کی آمد) کی خبر دے رہے تھے تو میں سمجھی کہ وہ جبرائیل علیہ السلام ہی تھے۔ یا ایسے ہی الفاظ کہے۔بیان کیا کہ میں نے ابوعثمان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی؟ تو انہوں نے بتایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۶۳۳ کا خلاصہ

یہ حدیث جبرائیل علیہ السلام کی آمد اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مشاہدے کو بیان کرتی ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے اور آپ صلى الله عليه وسلم سے بات کرتے رہے۔ اس وقت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بھی وہاں موجود تھیں۔ جب وہ چلے گئے تو نبی صلى الله عليه وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ یہ کون تھے؟ انہوں نے سمجھا کہ یہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ہیں۔ بعد میں جب انہوں نے نبی صلى الله عليه وسلم کا خطبہ سنا، جس میں آپ صلى الله عليه وسلم جبرائیل علیہ السلام کی آمد کی خبر دے رہے تھے، تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ اس حدیث میں وحی کے فرشتے، نبی صلى الله عليه وسلم سے گفتگو اور صحابہ کے مشاہدے کا ذکر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آتے اور گفتگو کرتے تھے۔
  • ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پہلے انہیں دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ سمجھا۔
  • بعد میں نبی صلى الله عليه وسلم کے خطبہ سے اصل بات واضح ہوئی۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دیکھی ہوئی بات بھی احتیاط سے بیان کرتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں