صحیح بخاری حدیث ۳۶۳۷ - اہل مکہ کو شق قمر دکھایا گیا

اہل مکہ کو دکھایا گیا معجزہ: انشقاق القمر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۳۷

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، ح وقَالَ لِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ : " أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ " .

انس بن مالک روایت:

مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ انہیں کوئی معجزہ دکھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شق قمر کا معجزہ یعنی چاند کا پھٹ جانا ان کو دکھایا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۶۳۷ کا خلاصہ

یہ حدیث شق قمر کے معجزے کو ایک اور انداز سے بیان کرتی ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل مکہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے کہا کہ انہیں کوئی نشانی دکھائیں۔ اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں چاند کے پھٹ جانے کا معجزہ دکھایا۔ اس حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ اہل مکہ نے آیت یعنی نشانی کا مطالبہ کیا، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انشقاق القمر دکھایا۔ شق قمر کی حدیث، چاند پھٹنے کا معجزہ اور معجزات نبوی کے موضوع پر یہ روایت بہت اہم ہے۔ حدیث میں نہ بحث کی تفصیل ہے، نہ اس کے بعد کے ردعمل کی لمبی بات، اس لیے اس کی تشریح بھی اسی حد تک ہونی چاہیے کہ مطالبے پر نشانی دکھائی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اہل مکہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے نشانی دکھانے کا مطالبہ کیا۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انہیں انشقاق القمر کا معجزہ دکھایا۔
  • معجزہ اللہ کے حکم سے نبی صلى الله عليه وسلم کی صداقت کی نشانی کے طور پر ظاہر ہوا۔
  • حدیث میں واقعے کی بنیادی بات مختصر انداز میں بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں