صحیح بخاری حدیث ۳۶۳۸ - چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی حدیث
چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا واقعہ: شق قمر کی مختصر روایت
صحیح بخاری : ۳۶۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۳۸
حَدَّثَنِي خَلَفُ بْنُ خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " أَنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶۳۸ کا خلاصہ
یہ حدیث شق قمر کے معجزے کی مختصر روایت ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا۔ الفاظ بہت مختصر ہیں، لیکن موضوع صاف ہے: چاند کا پھٹنا، نبی صلى الله عليه وسلم کا زمانہ، اور معجزہ شق قمر۔ جب ہم شق قمر کی حدیث پڑھتے ہیں تو ضروری ہے کہ اسی روایت کے الفاظ کو سامنے رکھیں۔ اس حدیث میں کوئی اضافی تفصیل بیان نہیں کی گئی، جیسے لوگوں کی پوری گفتگو یا واقعے کی لمبی کیفیت۔ اس لیے ایک اچھا قاری یہی سمجھے کہ یہ روایت اصل واقعے کی گواہی دیتی ہے۔ چاند دو ٹکڑے حدیث اور انشقاق القمر کے موضوع پر یہ روایت دوسری متعلقہ احادیث کے ساتھ مل کر معنی کو واضح کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں چاند پھٹنے کا ذکر کیا۔
- حدیث مختصر ہے، مگر شق قمر کے اصل واقعے کو بیان کرتی ہے۔
- روایت میں موجود بات پر اکتفا کرنا علمی احتیاط ہے۔
- ایک ہی واقعہ مختلف صحابہ سے مختصر یا تفصیلی انداز میں نقل ہو سکتا ہے۔
