صحیح بخاری حدیث ۳۶۳۶ - شق قمر کا معجزہ
شق قمر کی حدیث: چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا معجزہ
صحیح بخاری : ۳۶۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۳۶
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقَّتَيْنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْهَدُوا " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند کے پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لوگو اس پر گواہ رہنا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶۳۶ کا خلاصہ
یہ حدیث شق قمر کے معجزے کے بارے میں ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا۔ پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ لوگو، اس پر گواہ رہنا۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں مگر بات بہت واضح ہے۔ واقعہ نبی صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں ہوا، چاند کے دو حصے ہوئے، اور آپ صلى الله عليه وسلم نے حاضر لوگوں کو اس واقعے پر گواہ رہنے کا حکم دیا۔ شق قمر کی حدیث تلاش کرنے والے عموماً چاند پھٹنے کا معجزہ، انشقاق القمر اور معجزات نبوی کے بارے میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ اس روایت میں کوئی لمبی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے تشریح بھی اسی اصل بات تک محدود رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شق قمر نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں پیش آنے والا واقعہ ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کو اس واقعے پر گواہ رہنے کو فرمایا۔
- حدیث کے مختصر الفاظ میں معجزے کا اصل ذکر موجود ہے۔
- روایت بیان کرتے وقت اسی بات تک رہنا چاہیے جو حدیث میں آئی ہے۔
