صحیح بخاری حدیث ۷۵۵۸ - تصویروں کے بنانے والوں کی وعید
تصویروں کے بارے میں حدیث: جو بنایا اسے زندہ کرو
صحیح بخاری : ۷۵۵۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۵۸
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ان تصویروں کو بنانے والوں پر قیامت میں عذاب ہو گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو بنایا ہے اسے زندہ بھی کرو۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۵۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع تصاویر ہیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان تصویروں کو بنانے والوں پر قیامت کے دن عذاب ہو گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنایا ہے اسے زندہ کرو۔ یہ روایت الفاظ کے اعتبار سے صاف ہے اور اس میں اصل زور تصویر بنانے والوں کی جواب دہی پر ہے۔ یہاں تصویر بنانے کی حدیث، قیامت کا عذاب، احیوا ما خلقتم، اور تصویروں کا حکم جیسے الفاظ متعلق ہیں۔ حدیث میں کسی خاص فن، شکل یا جدید صورت کی الگ تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے توضیح اسی متن تک رکھی گئی ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ اس کام کو معمولی نہ سمجھا جائے جس پر حدیث میں اتنی سخت بات آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تصویر بنانے کے عمل پر قیامت کی جواب دہی بیان ہوئی ہے۔
- حدیث میں عذاب کا ذکر صاف لفظوں میں آیا ہے۔
- بنائی ہوئی چیز کو زندہ کرنے کا مطالبہ انسان کی عاجزی ظاہر کرتا ہے۔
- مسئلہ بیان کرتے وقت روایت کے متن کی حد ملحوظ رکھنی چاہیے۔
