صحیح بخاری حدیث ۷۸۶ - سجدہ اور قیام میں تکبیر
سجدہ اور دو رکعتوں کے بعد تکبیر: نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کی یاد
صحیح بخاری : ۷۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۸۶
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَخَذَ بِيَدِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، فَقَالَ : قَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ لَقَدْ صَلَّى بِنَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مطرف بن عبداللہ بن شخیر روایت:
میں نے اور عمران بن حصین نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ تو وہ جب بھی سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے۔ اسی طرح جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ جب دو رکعات کے بعد اٹھتے تو تکبیر کہتے۔ جب نماز ختم ہوئی تو عمران بن حصین نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ علی رضی اللہ عنہ نے آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلائی، یا یہ کہا کہ اس شخص نے ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح آج نماز پڑھائی۔
صحیح بخاری حدیث ۷۸۶ کا خلاصہ
اس روایت میں مطرف بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ علی رضی اللہ عنہ جب سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، اور جب دو رکعتوں کے بعد اٹھتے تو بھی تکبیر کہتے۔ نماز کے بعد عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نماز نے ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی۔ اس حدیث میں نماز میں تکبیرات کا عملی نمونہ سامنے آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی حرکات میں اللہ اکبر کہنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے جڑا ہوا عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدہ میں جاتے اور سجدہ سے اٹھتے وقت تکبیر کہنا ثابت ہے۔
- دو رکعتوں کے بعد اٹھتے وقت بھی تکبیر کا ذکر اس حدیث میں آیا ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نماز کو معیار سمجھتے تھے۔
- نماز میں ہر عمل کو سنت کے مطابق ادا کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔
