صحیح بخاری حدیث ۸۰۷ - سجدہ کا مسنون انداز
سجدہ کا درست طریقہ: بازو پھیلانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۸۰۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۰۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ ابْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " ، وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ نَحْوَهُ .
عبداللہ بن مالک بن بحینہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے سجدے میں اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر پھیلا دیتے کہ بغل کی سفیدی ظاہر ہو جاتی تھی۔ لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے بھی جعفر بن ربیعہ نے اسی طرح حدیث بیان کی۔
صحیح بخاری حدیث ۸۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ کا ایک واضح انداز بیان کیا گیا ہے۔ عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر الگ رکھتے کہ بغل کی سفیدی ظاہر ہو جاتی۔ سجدہ کا طریقہ، نماز میں ہاتھوں کی حالت، اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا سجدہ جیسے سوالات کے لیے یہ روایت اہم ہے۔ حدیث میں صرف سجدے کی حالت کا بیان ہے، اس لیے اسی حد تک بات رکھی گئی ہے۔ اس سے سمجھ آتا ہے کہ سجدہ میں جسم کو اس طرح نہ سمیٹا جائے کہ بازو بدن سے چپک جائیں، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مطابق مناسب کشادگی رکھی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدہ میں بازوؤں کو جسم سے جدا رکھنے کا عمل اس حدیث میں آیا ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے سجدے کی کیفیت صحابہ نے دھیان سے دیکھی اور بیان کی۔
- نماز کے چھوٹے چھوٹے اعمال بھی سنت کے مطابق سیکھنے چاہئیں۔
