صحیح بخاری حدیث ۸۰۸ - رکوع سجدہ مکمل کرنا

رکوع اور سجدہ مکمل کرنا: نماز ادھوری نہ چھوڑنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۰۸

حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ " رَأَى رَجُلًا لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ : مَا صَلَّيْتَ ، قَالَ : وَأَحْسِبُهُ ، قَالَ : وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ سُنَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

حذیفہ روایت:

انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجدہ پوری طرح نہیں کرتا تھا۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ تو نے نماز ہی نہیں پڑھی۔ ابووائل نے کہا کہ مجھے یاد آتا ہے کہ حذیفہ نے یہ فرمایا کہ اگر تم مر گئے تو تمہاری موت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق پر نہیں ہو گی۔

صحیح بخاری حدیث ۸۰۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجدہ پوری طرح ادا نہیں کر رہا تھا۔ جب وہ نماز مکمل کر چکا تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ ابووائل کے بیان کے مطابق حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر تم اسی حالت میں مر گئے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر نہیں مرو گے۔ یہ روایت نماز میں رکوع مکمل کرنے، سجدہ مکمل کرنے اور نماز میں جلدی نہ کرنے کے بارے میں صاف تنبیہ دیتی ہے۔ اس میں اصل بات یہ ہے کہ نماز کے بڑے ارکان کو ادھورا کرنا معمولی بات نہیں۔ نماز کا حق یہ ہے کہ رکوع اور سجدہ اطمینان سے ادا کیے جائیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رکوع اور سجدہ ادھورا کرنا نماز کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔
  • نماز کے ارکان کو پورا کرنا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے طریقے سے جڑا ہوا ہے۔
  • کسی کو نماز میں غلطی کرتے دیکھ کر خیرخواہی کے ساتھ تنبیہ کی جا سکتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں