صحیح بخاری حدیث ۸۰۹ - سجدہ کے سات اعضاء
سجدہ کے سات اعضاء: نماز میں سجدہ کس طرح کیا جائے؟
صحیح بخاری : ۸۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۰۹
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْضَاءٍ ، وَلَا يَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا الْجَبْهَةِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کا حکم دیا گیا، اس طرح کہ نہ بالوں کو اپنے سمیٹتے نہ کپڑے کو (وہ سات اعضاء یہ ہیں) پیشانی (مع ناک) دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔
صحیح بخاری حدیث ۸۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ ان اعضاء میں پیشانی مع ناک، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں شامل ہیں۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ بال اور کپڑے نہ سمیٹے جائیں۔ سجدہ کے سات اعضاء، سات ہڈیوں پر سجدہ، اور سجدہ کا درست طریقہ جیسے سوالات کا جواب اسی روایت میں ملتا ہے۔ اس حدیث کا پیغام بہت صاف ہے کہ سجدہ صرف سر جھکا دینے کا نام نہیں، بلکہ جسم کے مقرر اعضاء کا زمین پر آنا بھی اس کے بیان میں شامل ہے۔ نماز پڑھنے والے کو سجدہ کرتے وقت جلدی، لاپرواہی یا غیر ضروری کپڑے سمیٹنے سے بچنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدہ سات اعضاء پر کرنے کا حکم اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔
- پیشانی کے ساتھ ناک کا اشارہ بھی سجدے کے بیان میں شامل ہے۔
- نماز میں بال اور کپڑے سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
