صحیح بخاری حدیث ۷۹۰ - رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنا

رکوع میں ہاتھ کہاں رکھیں؟ گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۹۰

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ : " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْب أَبِي فَطَبَّقْتُ بَيْنَ كَفَّيَّ ثُمَّ وَضَعْتُهُمَا بَيْنَ فَخِذَيَّ ، فَنَهَانِي أَبِي وَقَالَ : كُنَّا نَفْعَلُهُ فَنُهِينَا عَنْهُ وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَيْدِينَا عَلَى الرُّكَبِ " .

مصعب بن سعد روایت:

میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز پڑھی اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھ لیا۔ اس پر میرے باپ نے مجھے ٹوکا اور فرمایا کہ ہم بھی پہلے اسی طرح کرتے تھے۔ لیکن بعد میں اس سے روک دئیے گئے اور حکم ہوا کہ ہم اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔

صحیح بخاری حدیث ۷۹۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں مصعب بن سعد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد کے پاس نماز پڑھی اور اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر رانوں کے درمیان رکھ لیں۔ ان کے والد نے انہیں ٹوکا اور بتایا کہ ہم پہلے ایسا کرتے تھے، پھر ہمیں اس سے روک دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ ہم اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھیں۔ اس حدیث کا موضوع رکوع کا طریقہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے طریقے میں جو بات پہلے کی جاتی تھی، بعد میں اس کے بارے میں نیا حکم آ سکتا تھا، اور صحابہ رضی اللہ عنہم اسی حکم کے مطابق عمل کرتے تھے۔ نمازی کو رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا طریقہ سیکھنا چاہیے، جیسا کہ اس روایت میں بیان ہوا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کا حکم اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔
  • رانوں کے درمیان ہتھیلیاں ملانا بعد میں منع کیا گیا۔
  • نماز کا طریقہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے سیکھا جاتا ہے۔
  • عبادت میں اپنی پسند نہیں، ثابت طریقے کی پیروی کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں