صحیح بخاری حدیث ۷۹۱ - رکوع اور سجدہ مکمل کرنا
رکوع اور سجدہ مکمل کرنے کی حدیث: نماز میں جلدی نہ کریں
صحیح بخاری : ۷۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۹۱
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، قَالَ : " رَأَى حُذَيْفَةُ رَجُلًا لَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، قَالَ : مَا صَلَّيْتَ ، وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فَطَرَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا " .
زید بن وہب روایت:
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نہ رکوع پوری طرح کرتا ہے نہ سجدہ۔ اس لیے آپ نے اس سے کہا کہ تم نے نماز ہی نہیں پڑھی اور اگر تم مر گئے تو تمہاری موت اس سنت پر نہیں ہو گی جس پر اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جو نہ رکوع پورا کرتا تھا اور نہ سجدہ۔ انہوں نے اس سے کہا کہ تم نے نماز ہی نہیں پڑھی، اور اگر تم اسی حالت میں مر گئے تو اس فطرت پر موت نہیں ہو گی جس پر اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا۔ یہ حدیث نماز میں رکوع اور سجدہ مکمل کرنے کی بڑی اہمیت بتاتی ہے۔ نماز صرف جلدی جلدی حرکات کا نام نہیں۔ رکوع، سجدہ اور ہر رکن کو ٹھہر کر ادا کرنا چاہیے۔ اس روایت میں سخت الفاظ اس لیے آئے کہ نماز کا اصل ڈھانچا خراب نہ ہو۔ نمازی کو چاہیے کہ وہ رکوع اور سجدہ میں اطمینان پیدا کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رکوع اور سجدہ ادھورا کرنا نماز کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔
- نماز میں جلد بازی سے بچنا چاہیے۔
- ہر رکن کو مکمل ادا کرنا ضروری ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نماز کی غلطی پر واضح تنبیہ کرتے تھے۔
