صحیح بخاری حدیث ۷۹۲ - نماز میں اعتدال اور توازن

نماز میں اعتدال: رکوع، سجدہ اور وقفوں کا متوازن طریقہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۹۲

حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " كَانَ رُكُوعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُجُودُهُ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ مَا خَلَا الْقِيَامَ وَالْقُعُودَ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ " .

براء بن عازب روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع و سجود، دونوں سجدوں کے درمیان کا وقفہ اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو تقریباً سب برابر تھے۔ سوا قیام اور تشہد کے قعود کے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۹۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع، سجدے، دونوں سجدوں کے درمیان وقفہ، اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کا وقت تقریباً برابر ہوتا تھا، البتہ قیام اور تشہد کا قعود اس سے الگ تھے۔ اس روایت سے نماز میں اعتدال اور ٹھہراؤ کا انداز معلوم ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بے ترتیب یا بہت جلدی والی نہیں تھی۔ رکوع، سجدہ اور درمیانی بیٹھک میں ایک مناسب ٹھہراؤ ہوتا تھا۔ اس حدیث سے نمازی کو یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ نماز میں ہر رکن کو اس کا حق دیا جائے۔ نہ بے جا جلدی، نہ لاپرواہی، بلکہ سکون کے ساتھ نماز ادا کی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز کے ارکان میں مناسب ٹھہراؤ ہونا چاہیے۔
  • رکوع، سجدہ اور درمیانی بیٹھک کو جلدی میں ختم نہیں کرنا چاہیے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نماز میں توازن اور سکون تھا۔
  • قیام اور تشہد کا قعود اس بیان سے الگ ذکر ہوئے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں