صحیح بخاری حدیث ۸۱۰ - سات اعضاء پر سجدہ
سات اعضاء پر سجدہ: نماز کے سجدے کی واضح حدیث
صحیح بخاری : ۸۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۱۰
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْنَا أَنْ نَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلَا نَكُفَّ ثَوْبًا وَلَا شَعَرًا " .
ابن عباس روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں سات اعضاء پر اس طرح سجدہ کا حکم ہوا ہے کہ ہم نہ بال سمیٹیں نہ کپڑے۔
صحیح بخاری حدیث ۸۱۰ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی سجدہ کے سات اعضاء کا حکم بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے اور یہ بھی کہ ہم نہ بال سمیٹیں اور نہ کپڑے۔ اس روایت میں الفاظ مختصر ہیں، مگر نماز کے سجدے کا طریقہ بہت صاف ہو جاتا ہے۔ جو لوگ سجدہ کے سات اعضاء، سات ہڈیوں پر سجدہ، یا نماز میں کپڑے سمیٹنے کا حکم تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ حدیث بنیادی رہنمائی دیتی ہے۔ اس میں زیادہ تفصیل نہیں، اس لیے بات اسی حد تک ہے کہ سجدہ مقرر اعضاء پر ہو اور نماز کے دوران بال یا کپڑا غیر ضروری طور پر نہ سمیٹا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدہ سات اعضاء پر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
- نماز میں بال سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
- نماز میں کپڑا سمیٹنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
