صحیح بخاری حدیث ۸۱۱ - امام سے پہلے حرکت نہ کرنا
امام سے پہلے سجدہ نہ کرنا: جماعت کی نماز کا ادب
صحیح بخاری : ۸۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۱۱
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ، حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَبْهَتَهُ عَلَى الْأَرْضِ " .
براء بن عازب روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھتے تھے۔ جب آپ «سمع الله لمن حمده» کہتے (یعنی رکوع سے سر اٹھاتے) تو ہم میں سے کوئی اس وقت تک اپنی پیٹھ نہ جھکاتا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ دیتے۔
صحیح بخاری حدیث ۸۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھتے تھے۔ جب آپ سمع الله لمن حمده کہتے، یعنی رکوع سے سر اٹھاتے، تو ہم میں سے کوئی اپنی پیٹھ اس وقت تک نہ جھکاتا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ دیتے۔ امام کی اقتدا، امام سے پہلے حرکت نہ کرنا، اور جماعت کی نماز کا ادب اس روایت کے بنیادی موضوعات ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتدی کو امام سے آگے بڑھنے کے بجائے اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ یہاں خاص طور پر رکوع کے بعد سجدے میں جانے کے وقت کا ادب بیان ہوا ہے، اس لیے اسی عمل کو سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مقتدی کو امام سے پہلے سجدے میں نہیں جانا چاہیے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی حرکت کا انتظار کرتے تھے۔
- جماعت کی نماز میں نظم اور پیروی بہت اہم ہے۔
