صحیح بخاری حدیث ۸۱۲ - سجدہ کے اعضاء کی تفصیل

سجدہ کے اعضاء کی تفصیل: پیشانی، ناک، ہاتھ، گھٹنے اور پاؤں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۱۲

حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الْجَبْهَةِ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ وَلَا نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَالشَّعَرَ " .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر۔ اس طرح کہ ہم نہ کپڑے سمیٹیں نہ بال۔

صحیح بخاری حدیث ۸۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پھر پیشانی کا ذکر آیا اور آپ نے اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے بعد دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں کا ذکر کیا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا کہ ہم کپڑے اور بال نہ سمیٹیں۔ سجدہ کے سات اعضاء کی حدیث میں یہ روایت خاص طور پر واضح ہے، کیونکہ اس میں ناک کی طرف اشارہ اور پاؤں کی انگلیوں کا ذکر بھی آیا ہے۔ اس سے سجدہ کا درست طریقہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ سجدہ مقرر اعضاء کے ساتھ، سادگی اور سکون سے کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سجدہ میں پیشانی اور ناک کا بیان اس حدیث میں آیا ہے۔
  • دونوں ہاتھ، گھٹنے اور پاؤں کی انگلیاں سجدے کے اعضاء میں شامل ہیں۔
  • نماز میں کپڑے اور بال سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں