صحیح بخاری حدیث ۸۱۶ - سجدہ اور کپڑے نہ سمیٹنا
سجدہ میں سات اعضاء: بال اور کپڑا نہ سمیٹنے کا حکم
صحیح بخاری : ۸۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۱۶
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ لَا أَكُفُّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا " .
ابن عباس روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات ہڈیوں پر اس طرح سجدہ کا حکم ہوا ہے کہ نہ بال سمیٹوں اور نہ کپڑے۔
صحیح بخاری حدیث ۸۱۶ کا خلاصہ
اس روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل ہوا ہے کہ مجھے سات پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے، اور میں نہ بال سمیٹوں اور نہ کپڑا۔ یہ حدیث سجدہ کے آداب کو سادہ انداز میں بیان کرتی ہے۔ نماز میں سجدہ، سات اعضاء پر سجدہ، اور کپڑے نہ سمیٹنے کی حدیث جیسے الفاظ اسی موضوع سے جڑے ہیں۔ روایت میں اصل بات دو حصوں میں ہے: سجدہ سات اعضاء پر ہو، اور نماز کے دوران بال یا کپڑے کو سمیٹا نہ جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ ایک منظم عمل ہے، جس میں بدن کے مقرر حصوں اور نماز کے سکون کا خیال رکھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدہ سات اعضاء پر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
- نماز میں بال سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
- نماز میں کپڑا سمیٹنے کا عمل بھی اس حدیث میں منع ہوا ہے۔
