صحیح بخاری حدیث ۸۲۰ - رکوع سجدہ کی مقدار

رکوع، سجدہ اور بیٹھنے کی مقدار: نماز میں سکون کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۲۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " كَانَ سُجُودُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُكُوعُهُ وَقُعُودُهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ " .

براء بن عازب روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ، رکوع اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی مقدار تقریباً برابر ہوتی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۸۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ، رکوع اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی مقدار تقریباً برابر ہوتی تھی۔ یہ روایت نماز میں توازن اور اطمینان کو بہت سادہ انداز میں سمجھاتی ہے۔ رکوع اور سجدہ کی مقدار، نماز میں سکون، اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا جیسے سوالات کا جواب اسی حدیث میں ملتا ہے۔ یہاں اصل بات یہ نہیں کہ گھڑی سے وقت ناپا جائے، بلکہ حدیث کے الفاظ کے مطابق نماز کے ان ارکان میں قریب قریب برابر ٹھہراؤ تھا۔ اس سے نماز پڑھنے والے کو سبق ملتا ہے کہ رکوع، سجدہ اور بیٹھنے کو جلدی جلدی ختم نہ کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رکوع، سجدہ اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے میں ٹھہراؤ ہونا چاہیے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نماز میں ان ارکان کی مقدار تقریباً برابر بیان ہوئی ہے۔
  • نماز میں جلدی کے بجائے سکون اور ترتیب کا خیال رکھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں