صحیح بخاری حدیث ۸۲۱ - نماز نبوی میں رکوع کے بعد اطمینان
نماز نبوی کا طریقہ: رکوع کے بعد اطمینان
صحیح بخاری : ۸۲۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۲۱
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنِّي لَا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا ، قَالَ ثَابِتٌ : " كَانَ أَنَسُ يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَكُمْ تَصْنَعُونَهُ ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ ، وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ " .
انس بن مالک روایت:
میں نے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا تھا بالکل اسی طرح تم لوگوں کو نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا ہوں۔ ثابت نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک ایسا عمل کرتے تھے جسے میں تمہیں کرتے نہیں دیکھتا۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں اور اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھتے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۸۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نماز نبوی کا طریقہ اور نماز میں اطمینان ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ وہ لوگوں کو ویسے ہی نماز پڑھاتے تھے جیسے انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو نماز پڑھاتے دیکھا۔ ثابت رحمہ اللہ نے خاص بات یہ بیان کی کہ انس رضی اللہ عنہ رکوع سے سر اٹھا کر اتنی دیر کھڑے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا شاید وہ بھول گئے ہیں۔ اسی طرح وہ دونوں سجدوں کے درمیان بھی اچھی طرح بیٹھتے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نماز جلدی جلدی حرکتوں کا نام نہیں، بلکہ رکوع کے بعد قیام اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا بھی نماز کا حصہ ہے۔ نماز میں اطمینان، رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا، اور سجدوں کے درمیان سکون سے بیٹھنا اس روایت کی نمایاں باتیں ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نماز کو دیکھ کر سیکھنا صحابہ کا طریقہ تھا۔
- رکوع کے بعد سیدھا کھڑے ہونا نماز کا واضح عمل ہے۔
- دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہر کر بیٹھنا اس حدیث میں خاص طور پر آیا ہے۔
- نماز میں جلد بازی کے بجائے اطمینان کو جگہ دینی چاہیے۔
