صحیح بخاری حدیث ۸۲۶ - ہر حرکت پر تکبیر اور نماز محمدی
نماز محمدی میں تکبیرات کا اہتمام
صحیح بخاری : ۸۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۲۶
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ صَلَاةً خَلْفَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ ، وَإِذَا رَفَعَ كَبَّرَ ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ " ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي ، فَقَالَ : لَقَدْ صَلَّى بِنَا هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مطرف بن عبداللہ روایت:
میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ آپ نے جب سجدہ کیا، سجدہ سے سر اٹھایا دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوئے تو ہر مرتبہ تکبیر کہی۔ جب آپ نے سلام پھیر دیا تو عمران بن حصین نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ انہوں نے واقعی ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھائی ہے یا یہ کہا کہ مجھے انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی۔
صحیح بخاری حدیث ۸۲۶ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز میں تکبیرات کے اہتمام کو بہت واضح کرتی ہے۔ مطرف کہتے ہیں کہ انہوں نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ علی رضی اللہ عنہ جب سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو بھی تکبیر کہتے۔ نماز کے بعد عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انہوں نے ہمیں محمد صلى الله عليه وسلم کی طرح نماز پڑھائی، یا یہ کہ ان کی نماز نے مجھے محمد صلى الله عليه وسلم کی نماز یاد دلا دی۔ اس روایت میں نماز محمدی، تکبیرات نماز، اور صحابہ کا نماز کے طریقے کو پہچاننا نمایاں ہے۔ بات یہیں تک محدود ہے کہ تکبیرات کا یہ عمل نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نماز کی یاد دلاتا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدہ کرتے وقت تکبیر کہنا اس روایت میں بیان ہوا ہے۔
- سجدہ سے اٹھتے وقت بھی تکبیر کا ذکر آیا ہے۔
- دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہونے پر تکبیر کہی گئی۔
- صحابہ نماز کے انداز سے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نماز کو پہچانتے تھے۔
